ٹائم مینجمنٹ
ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کیلئے
تنظیم ذات اور تنظیم وقت کے لیے ایک جامع رہ نما کتاب
اس کتاب میں تحریر کردہ مواد درج ذیل اداروں میں تقسیم کیے گئے پریزنٹیشن نوٹس پر مشتمل ہے جو مصنف نے ٹائم مینجمنٹ ورکشاپس میں وہاں پیش کیے:
آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (راولپنڈی)
اور
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (رنگون والا ہال، کراچی)
یہ کتاب اُس فکر کی نتیجہ ہے جو گزشتہ چالیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں میرے ساتھ رہی ہے۔ یہ فکر درحقیقت ایک تشویش ہے جو پاکستان کے صحی نظام (ہیلتھ سسٹم) کے کنسلٹنگ، وارڈز اور انتظامی حلقوں میں ہر روز محسوس کی جاتی ہے: بہترین ٹیلنٹ، محنت اور نیک جذبہ بڑی خاموشی
سے وقت کے بہائو کے ساتھ ضائع ہورہے ہیں۔
مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے بزنس، پبلک اکاونٹنگ اور آرگینائزیشنل ڈیولپمنٹ میں خدمات انجام دینے والے بہترین ذہنوں کے ساتھ کام کیا ہے جن میں پی ڈبلیو سی، اینڈرسن اور ارنسٹ اینڈ ینگ جیسے موقر ادارے شامل ہیں۔ (PwC, Andersen, and EY)ہر ادارے میں ایک طریقہ کار تھا: سب سے زیادہ قابل افراد پر کام کا سب سے زیادہ بوجھ۔
سخت محنت کرنے والے افراد عموماً سب سے کم کارکردگی دینے والے لوگ تھے۔ یہاں انتہائی پُرعزم پروفیشنلز تھے لیکن حیران کن طور پر محسوس کرتے تھے کہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرپارہے جس کی وجہ سے ان کا صبر، ان کے اہل خانہ سے تعلق، ان کا اعتماد اور یقین متاثر ہورہے تھے۔
شعبہ صحت کے اداروں میں ٹائم مینجمنٹ شاید ہی کہیں پڑھائی جاتی ہو۔ جبکہ میڈیسن، سرجری، ایڈمنسٹریشن جیسے امور پر ساری توانائی صرف کی جاتی ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ محنت کی جاتی ہے۔ ان اداروں میں پیتھالوجی، فارماکولوجی اور پراسیجر کے بارے میں خوب پڑھایا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اپنے دست یاب وسائل کو کیسے منظم و مرتب کیا جائے جس کے اندر رہتے ہوئے یہ سب کچھ کرنا ہے، یعنی وقت۔
جب آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ، راولپنڈی اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے مجھے اپنے ارکان کیلئے اس قسم کا پروگرام ترتیب دینے کیلئے بلایا تو میں نے اس کام کی اہمیت اور فوری اطلاق کو بھانپ لیا۔ پاکستانی ڈاکٹروں کو ایک مختلف انداز سے سخت دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں دن بھر میں بہت زیادہ مریض دیکھنے پڑتے ہیں اور پیچیدہ ادارہ جاتی ماحول میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اپنی کمیونٹی اور گھر والوں کی ذمہ داریاں اور حدود بھی ہوتی ہیں۔ اور ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دینی فرائض… نماز، زکوٰۃ، گھر بار، خدمت خلق… جیسے امور بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ یقیناً ان کیلئے بوجھ نہیں، بلکہ رحمت و برکت کا ذریعہ ہیں، بہ شرط یہ کہ حکمت و تدبیر کے ساتھ ان پر عمل کیا جائے۔
اس کتاب کے تین اغراض ہیں۔
■ اول، تنظیم وقت (ٹائم مینجمنٹ) کے بارے میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ لٹریچر کی فراہمی… جس میں پیٹر ڈرکر، ایلن لیکین، امام غزالی، امام جوزی کے بنیادی کام سے لے کر کارکردگی، معمولاتِ کار اور فکر پر جدید تحقیقات پر مشتمل مواد شامل ہے۔
■ دوم، کئی عشروں کی ذاتی مشق اور مشاہدہ: وہ عادات اور سسٹم جن کی وجہ سے میں نے دیکھا کہ افراد اور ادارے بدل گئے یا ناکام ہوگئے۔
■ سوم اور سب سے اہم، ہمارے دین کی رہ نمائی، یعنی قرآن، سنت اور علمائے اسلام کی تحریری دانش جس کے نتیجے میں چودہ صدی پہلے اسلام نے وقت کی قدر و قیمت او رتنظیم کی جو دعوت دی ہے، اس کی روشنی میں ایک نصاب کی تیاری۔
میں نے یہ کتاب لکھنا شروع کی تو مجھے لگا کہ کاش، یہ کتاب مجھے اس وقت مل جاتی کہ جب میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا تھا۔ ایک ایسی کتاب جو سطحی نہ ہو مگر عملی ہو، مکمل ہو مگر بوجھل نہ کرے، اور اسلامی اقدار کے مطابق ہو ۔ آپ یہ کتاب اول تا آخر پڑھیں یا وقت کے حوالے سے اپنے کسی خاص مسئلے کیلئے پڑھیں، مجھے یہ امید ہےکہ یہ کتاب آپ کو ضرور فائدہ دے گی۔
آخر میں، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ یہ کتاب کیسے وجود میںآئی: اس کتاب کا ابتدائی مواد میرے
Armed Forces Post Graduate Medical Institute & PIMA
یعنی پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ٹریننگ سیشنز کے نوٹس کی شکل میں موجود تھا جس میں فریم ورک، اقوال، چیک لسٹس اور برسوں کی تدریس سے وجود میں آنے والے آئیڈیاز شامل ہیں۔ اس تمام مواد کی ترتیب نو، چھانٹی، اور پھر ان نوٹس کو باقاعدہ ایک کتاب کی شکل دینا، بذاتِ خود ایک بڑا کام اور انھی اصولوں پر عمل کی مشق تھی جن کی تفصیل اس کتاب کے صفحات میں آپ کوپڑھنے کو ملے گے، یعنی مواد کی ترتیب و ترجیح، منظم ڈھانچا اور اسے مکمل کرنے کی کاوش۔
اس ضمن میں، میں AFPGMI اور PIMA کے اعتماد اور ویژن پر ان کی لیڈرشپ کا مشکور ہوں۔ میں اُن شرکا کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ہرسیشن میں مجھ سے سوالات پوچھے جس کے نتیجے میں مجھے بہتر سوچنے کا موقع ملا۔ اور، سب سے بڑھ کر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکرگزار ہوں جس نے اس کتاب کی تکمیل کیلئے وقت، صحت اور یکسوئی بخشی۔
میں اس کتاب کا اختتام اس دعا پر کرتا ہوں جس نے اس کتاب کی تکمیل کے دوران ہر موقع پر میری رہ نمائی کی:
اے اللہ! ہمارے وقت کو ہمارے لیے رحمت و برکت کا ذریعہ بنا، نہ کہ زحمت اور بوجھ۔ ہمارے آج کے دن کو ہمارے گزشتہ دن سے بہتر بنادے، اور ہمارے آنے والے کل کو ہمارے آج سے بہتر بنادے۔ تو نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے، اسے صحیح طور پر استعمال کرنے کی عقل دے تاکہ ہم اسے آپ کی رضا اور آپ کی مخلوق کی خدمت کیلئے بہتر انداز میں استعمال کرسکیں۔ آمین
Time Management for Healthcare Professionals-Basheer Juma










Reviews
There are no reviews yet.